دمشق،13؍جنوری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)دمشق کے نواح میں واقع المزہ نامی فوجی اڈے پر راکٹ حملے اسرائیلی فوج نے کیے ہیں۔ شامی فوج کے مطابق دمشق کے جنوب مغربی علاقے میں واقع اس فوجی اڈے پر آٹھ راکٹ حملے کیے گئے، جس کی وجہ سے اس تنصیب میں آگ لگ گئی۔تاہم باقاعدہ فوجی بیان میں کسی کے ہلاک ہونے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے تاہم مقامی سکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس کارروائی میں کم از چار افراد مارے گئے ہیں۔
شامی فوج کی طرف سے تیرہ جنوری بروز جمعہ جاری کردہ ایک بیان میں اس حملے کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ شامی فوج نے اس حملے کو ایک دھچکا قرار دیتے ہوئے ساتھ ہی تل ابیب کو خبردار کیا گیا ہے کہ اس کارروائی کے برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔مقامی میڈیا کے مطابق دھماکے اتنے شدید تھے کہ اس کی آوازیں دمشق بھر میں سنی گئیں۔ شامی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق گزشتہ رات گئے شمالی اسرائیل سے متعدد راکٹ فائر کیے گئے، جو المزہ فوجی بیس کے کمپاؤنڈ میں گرے۔ فوجی بیان میں مزید کہا گیا، شامی فوج اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اسرائیل کو خبردار کرتی ہے کہ ایسی کارروائیوں کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
سن 2010ء میں ابھی اُس باغیانہ انقلابی تحریک نے حلب کی جامع الاموی کے دروازوں پر دستک نہیں دی تھی، جو تب پوری عرب دُنیا میں بھڑک اٹھی تھی۔ یہ خوبصورت مسجد سن 715ء میں تعمیر کی گئی تھی اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔ساتھ ہی اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیاں جاری رہیں گی اور ان دہشت گردوں کو ساتھ دینے والے عناصر کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ امر اہم ہے کہ شامی حکومت ایسے تمام گروہوں کو دہشت گرد قرار دیتی ہے، جو اس کے خلاف مسلح بغاوت میں شریک ہیں۔ایسی اطلاعات ہیں کہ ماضی میں اسرائیلی فورسز نے شام میں تعینات لبنانی حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ تاہم گزشتہ برس نومبر میں شامی فوج نے اسرائیلی فوج پر الزام عائد کیا تھا کہ اس کے جنگی طیاروں نے دمشق میں میزائل حملے کیے تھے۔دسمبر سن دو ہزار پندرہ میں مبینہ اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں شام میں حزب اللہ کا اہم کمانڈر سمیر قنطار مارا گیا تھا۔